*سوال: همارے علاقے میں شادی کے موقع پر ایک خاص طریقه سے ســهــرا (تعریفی کلام ) پڑھایا جاتا هے• جس میں مرد و عورت کے اختلاط کے ساتھ بهت سارے مفاسد هوتے هیں• کیا سهرا پڑھانے کا شرعا کوئی ثبوت هے؟*
*جــواب : نــــکــاح کے موقع پر سـهـرا پڑھانا ایک رسم هے• اس میں بهت سے گناه پائے جاتے هیں• مثلا مرد وعورت کا بالمشافهه آمنے سامنے هونا اور هنسی مذاق کرنا جو که ناجائز اورحرام هے• اوراس میں پیسوں کا لٹانا یه اسراف اورفضول خرچی هے• لهذا اس رسم کو تـرک کرنا ضـــروری هے• نکـــاح میں جس قدر سادگی هو اتنا هی بهتر هے•*
*https://chat.whatsapp.com/B4tVUEU7AEGJ80Ox6V9KLq
*✏️ایــڈمــن: محمد حنیف مگسی*
⛔جملہ: نمازیں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے، 🔸️جواب: حدیث مبارکہ میں ہے؛ جس نے رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کی کسی چیز کا یا اس کی جزا و سزا کا مذاق اڑایا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (اگر چہ اس نے ہنسی مذاق کے طور پر یہ بات کہی ہو۔) ⛔جملہ: "محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے" . 🔸️جواب: بالکل غلط، بحیثیت مسلمان ہمارے لئے محبت اور جنگ دونوں کی متعین حدود دین اسلام میں موجود ہیں، جن سے تجاوز کرنا جائز نہیں. ⛔جملہ: "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی- یعنی ساری زندگی گناہوں میں گزری اب نیک ہونے کا کیا فائدہ؟" . 🔸️جواب: 100% غلط... ! بحیثیت مسلمان لاکھوں، کروڑوں گناہ سرزد ہونے کے بعد بھی حج کو جائے گا، تو ان شاء اللہ رب کی رحمت کو اپنے قریب پائے گا. گویا کوئی شخص کتنا ہی گناہ سے آلودہ کیوں نہ رہا ہو؟ اگر سچی توبہ کرکے پلٹ آنا چاہے تو مغفرت کا دروازہ کھلا ہے. فرمانِ باری تعالی ہے: وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقیناً بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں۔ [طه:...
Comments
Post a Comment