*بسْــــــــــــــمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم*
*1️⃣ اگر نیک اولاد چاہئے:*
رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ (سوره آل عمران، آيہ38)
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (انبیاء، آیہ89)
*2️⃣ اگر راہ مستقیم سے گمراہی کا خطرہ ہے:*
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّاب (سورہ آل عمران، آیہ8)
*3️⃣ اگر ثابت قدمی اور کفار پر غلبہ چاہتے ہو:*
رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسۡرَافَنَا فِیۤ أَمۡرِنَا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ (آل عمران، آیہ147)
*4️⃣ اگر کسی مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہو:*
حَسْبِيَ الله لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (سوره توبہ، آیہ139)
*5️⃣ اگر چاہتے ہو کہ آپ خود اور آپ کے بچے نماز کے پابند ہو جائیں:*
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ (سوره ابراهیم، آیہ40)
*6️⃣ اگر بخشش کی طلب ہے:*
وَقُل رَّبِّ ٱغۡفِرۡ وَٱرۡحَمۡ وَأَنتَ خَیۡرُ ٱلرَّ ٰحِمِینَ (سورہ مؤمنون، آیہ118)
قَالَ رَبِّ إِنِّی ظَلَمۡتُ نَفۡسِی فَٱغۡفِرۡ لِی فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ (سورہ قصص، آیہ16)
*7️⃣ اگر علم و دانش کی طلب ہے:*
وَقُل رَّبِّ زِدۡنِی عِلۡمࣰا (سورہ طه، آیہ114)
*8️⃣ اگر سر بلندی اور نیک سیرت کے طلبگار ہو:*
رَبِّ هَبۡ لِی حُكۡمࣰا وَأَلۡحِقۡنِی بِٱلصَّـٰلِحِینَ (سورہ شعراء، آیہ83)
*9️⃣ اگر دنیا و آخرت میں بھلائی چاہتے ہو:*
رَبَّنَاۤ ءَاتِنَا فِی ٱلدُّنۡیَا حَسَنَةࣰ وَفِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ حَسَنَةࣰ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ (سورہ بقرہ، آیہ201)
*🔟 اگر روز قیامت کی رسوائی سے نجات چاہیے:*
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا یَوۡمَ ٱلۡقِیَـٰمَةِ (سورہ آل عمران، آیہ194)
➖➖➖➖➖➖➖➖
┈••❃ *المصطفی قرآن اکیڈمی* ┈••❃
⛔جملہ: نمازیں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے، 🔸️جواب: حدیث مبارکہ میں ہے؛ جس نے رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کی کسی چیز کا یا اس کی جزا و سزا کا مذاق اڑایا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (اگر چہ اس نے ہنسی مذاق کے طور پر یہ بات کہی ہو۔) ⛔جملہ: "محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے" . 🔸️جواب: بالکل غلط، بحیثیت مسلمان ہمارے لئے محبت اور جنگ دونوں کی متعین حدود دین اسلام میں موجود ہیں، جن سے تجاوز کرنا جائز نہیں. ⛔جملہ: "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی- یعنی ساری زندگی گناہوں میں گزری اب نیک ہونے کا کیا فائدہ؟" . 🔸️جواب: 100% غلط... ! بحیثیت مسلمان لاکھوں، کروڑوں گناہ سرزد ہونے کے بعد بھی حج کو جائے گا، تو ان شاء اللہ رب کی رحمت کو اپنے قریب پائے گا. گویا کوئی شخص کتنا ہی گناہ سے آلودہ کیوں نہ رہا ہو؟ اگر سچی توبہ کرکے پلٹ آنا چاہے تو مغفرت کا دروازہ کھلا ہے. فرمانِ باری تعالی ہے: وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقیناً بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں۔ [طه:...
Comments
Post a Comment