Skip to main content

*میں مکّہ شہر میں اتنے قتل کرتا کہ !!!!!*

‏بارہ سال کا ایک بچہ ہاتھ میں تلوار پکڑے تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک طرف لپکا جارہا تھا۔ دھوپ بھی خاصی تیز تھی، بستی میں سناٹا طاری تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس بچے کو کسی کی پرواہ ہی نہیں۔ لپکتے قدموں کا رخ بستی سے باہر کی طرف تھا، چہرہ غصے سے سرخ تھا، آنکھیں کسی کی تلاش میں دائیں بائیں گھوم رہی ہیں، اچانک ایک چٹان کے پیچھے سے ایک سایہ لپکا۔ بچے نے تلوار کو مضبوطی سے تھام لیا۔ آنے والا سامنے آیا تو بچے کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔ ہاتھ میں تلوار اور چہرے پر حیرت اور مسرت کی جھلملاہٹ دیکھ کر آنے ‏والے نے شفقت سے پوچھا: " میرے پیارے بیٹے! ایسے وقت میں تم یہاں کیسے؟" بچے نے جواب دیا: "آپ کی تلاش میں۔" اس بچے کا نام زبیر رضی اللہ عنہ تھا۔ باپ کا نام عوام اور ماں کا نام صفیہ رضی اللہ عنہا، یہ پیارے بچے رسول کریم صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ‏کا پھوپی زاد بھائی تھے۔ قصہ یہ پیش آیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں افواہ پھیلی کہ پیغمبر رسولِ کریم ﷺ کو کفار نے پہاڑوں میں پکڑلیا ہے۔ مکہ میں دشمن تو بہت زیادہ تھے، اس لیے ایسا ہو بھی سکتا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر بارہ سال تھی فوراً تلوار ‏اٹھائی اور اکیلے ہی شہنشاہ رسالت ﷺ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آخر رحمت اللعالمین ﷺ مل گئے۔ سوہنڑے نبی کریم ﷺ نے اس حالت میں دیکھ کر حیرت سے دریافت فرمایا: "اگر واقعی کفار نے مجھے پکڑ لیا گیا ہوتا تو پھر تم کیا کرتے؟" اس بارہ سالہ محافظ ناموس رسالت ﷺ نڈر بچے نے جواب دیا کہ: *‏میں مکّہ میں اتنے قتل کرتا کہ ان کے خون کی ندیاں بہادیتا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتا۔"* تاجدار ختم نبوت ﷺ یہ بات سن کر مسکرائے اور اس جرأت مندانہ انداز پر اپنی چادر مبارک انعام کے طور پر عطافرمائی۔ اللہ تعالٰی کو یہ ادا بہت پسند آئی، جبرئیل امین علیہ السلام آسمان سے ‏نازل ہوئے اور عرض کی، یارسول اللہﷺ زبیر کو خوش خبری دے دیں کہ اب قیامت تک جتنے لوگ اللہ کے راستے میں تلوار اٹھائیں گے، ان کا ثواب زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بھی ملے گا۔ اللہ کریم سیدنا زبیر بن عوام رضی الله عنہ کی جرات کے صدقے ہمیں اپنے محبوبِ نعیم ﷺ کا سچا وفادار بنائے۔ آمین یارب العالمین 🕋 https://chat.whatsapp.com/JyIhtO4iMu19SCJWjTIKZd

Comments

Popular posts from this blog

✒ *چند مشہور جاھلانہ جملے اور ان کے جوابات*۔

⛔جملہ: نمازیں بخشوانے گئے تھے، روزے گلے پڑ گئے، 🔸️جواب: حدیث مبارکہ میں ہے؛ جس نے رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کی کسی چیز کا یا اس کی جزا و سزا کا مذاق اڑایا اس نے کفر کا ارتکاب کیا۔ (اگر چہ اس نے ہنسی مذاق کے طور پر یہ بات کہی ہو۔) ⛔جملہ: "محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے" . 🔸️جواب: بالکل غلط، بحیثیت مسلمان ہمارے لئے محبت اور جنگ دونوں کی متعین حدود دین اسلام میں موجود ہیں، جن سے تجاوز کرنا جائز نہیں. ⛔جملہ: "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی- یعنی ساری زندگی گناہوں میں گزری اب نیک ہونے کا کیا فائدہ؟" . 🔸️جواب: 100% غلط... ! بحیثیت مسلمان لاکھوں، کروڑوں گناہ سرزد ہونے کے بعد بھی حج کو جائے گا، تو ان شاء اللہ رب کی رحمت کو اپنے قریب پائے گا. گویا کوئی شخص کتنا ہی گناہ سے آلودہ کیوں نہ رہا ہو؟ اگر سچی توبہ کرکے پلٹ آنا چاہے تو مغفرت کا دروازہ کھلا ہے. فرمانِ باری تعالی ہے: وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقیناً بہت زیادہ معاف کرنے والا ہوں۔ [طه:...

مَرنے کے پانچ بڑے پَچهتاوے

🍃🔅🍃🔅🍃🔅🍃🔅🍃🔅🍃🍃🔅🍃🔅🍃🔅🍃🔅🍃🔅🍃 ۔ *🍃مَرنے کے پانچ بڑے پَچهتاوے:🍃* ``` " برونی وئیر "(Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس تھی۔ مگر اس کا کام عام نرسوں جیسا نہیں تھا۔ وہ ایک ایسے کلینک میں کام کرتی رہی جہاں ایسے مریض لائے جاتے تھے جو زندگی کی بازی ہار رہے ہوتے تھے۔ ان کی سانسیں چندہفتوں کی مہمان ہوتی تھیں۔ مریضوں میں ہرعمر اور ہر مرض کے لوگ ہوتے تھے۔ ان میں صرف ایک چیز یکساں ہوتی کہ وہ صرف چندہفتوں کے مہمان ہوتے تھے۔ زندگی کی ڈورٹوٹنے والی ہوتی تھی۔ برونی نے محسوس کیاکہ اس کے کلینک میں دس بارہ ہفتوں سے زیادہ کوئی زندہ نہ رہتا تھا۔ کلینک میں موجود دوسرے ڈاکٹروں اور دیگر نرسوں نے ان چند دنوں کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا مگر برونی ایک حساس ذہن کی مالک تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ اگر انسان کو یہ پتہ ہو کہ وہ اب اس دنیا سے جانے والا ہے تو غیر معمولی حد تک سچ بولنے لگتا ہے۔ اپنے گزرے ہوئے وقت پر نظر ڈال کرنتائج نکالنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوجاتا ہے‘ اپنی تمام عمر کے المیے، خوشیاں اورنچوڑ سب کچھ بتانا چاہتا ہے۔ برونی نے محسوس کیا، کہ موت کی وادی کے سفر پر روانگی س...

بغداد كا بازار ,حلوائ اور فقير

بغداد کے بازار میں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکان سجا رہا تھا کہ ایک فقیر آنکلا تو دکاندار نے کہا کہ باباجی آؤ بیٹھوفقیر بیٹھ گیا تو حلوائی نے گرم گرم دودھ فقیر کو پیش کیا. فقیر نے دودھ پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس حلوائی کو کہا کہ بھائی تیرا شکریہ اور یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔ بازار میں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کر موسم کا لطف لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، بازار میں کیچڑ تھا، فقیر اپنی موج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ فقیر کے چلنے سے ایک چھینٹا اڑا اورفاحشہ عورت کے لباس پر گر گیا۔ جب یہ منظر فاحشہ عورت کے دوست نے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اٹھا اور فقیر کے منہ پرتھپڑ مارا اور کہا کہ فقیر بنے پھرتے ہو، چلنے پھرنے کی تمیز نہیں؟ فقیر نے ہنس کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا مالک تو بھی بڑا بے نیاز ہے، کہیں سے دودھ پلواتا ہے اور کہیں سے تھپڑ مرواتا ہے.. یہ کہہ کر فقیر آگے چل پڑا، فاحشہ عورت چھت پر جارہی ہوتی ہے تو اس کا پاؤں پھسلتا ہے اور زمین پر سر کے بل گر جاتی ہے، اس کو ایسی شدید چوٹ لگتی ہے کہ موقع پر ہی فوت ہوجاتی ہے۔ شور مچ گیا کہ فقیر نے...